مہاجروں کو آج جس نہج تک پہنچا دیا گیا ہے، اس کے ذمہ دار بھی تم ہی لوگ ہو۔
تمہیں قائد کی سالگرہ، اس کے ماں باپ کی برسی، اس کے بھائی، بھتیجے کی شہادت اور اس کی بیٹی کی سالگرہ کی تقریبات سے ہی فرصت نہیں ملی، جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی اور سندھودیشی عناصر کراچی کے ہر ادارے اور ہر پبلک فورم پر اپنا قبضہ مضبوط کرتے چلے گئے۔
اور تمہارا قائد؟ اسٹیبلشمنٹ کی ڈگڈگی بجاکر قوم کے بچوں کو مروانے میں مصروف رہا۔
پھر تاریخ کا وہ سیاہ باب بھی نہیں بھولنا چاہیے جب سانحہ 30 ستمبر حیدرآباد کے محض 51 دن بعد پیپلز پارٹی کو 90 پر ویلکم کیا گیا، بے نظیر کو ہار پہنائے گئے، اور اسی سانحہ کی ایف آئی آر میں نامزد ملزم شفیع برفت کو ہار پہنائے گئے اور اس سے اجرک پہننے کی تصاویر بنوائی گئیں۔
یہ سب کرنے کے بعد آج اگر کوئی مہاجروں کی محرومی، بے بسی اور سیاسی زوال پر مگرمچھ کے آنسو بہائے تو سوال بنتا ہے:
مہاجروں کو اس نہج تک پہنچانے والے تم ہی تو ہو۔
میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ MDCAT کے سامنے آنے والے نتائج میں کراچی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ زیادتی واضح نظر آتی ہے۔ اعتراض یہ نہیں کہ اس میں ٹاپ پر آنے والوں کا تعلق تھر سے ہے، کراچی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ امتحانی نتائج میں زیادتیوں کی شکایات مسلسل سامنے آرہی ہیں، اس سے قبل کراچی میں انٹر بورڈ کے امتحانی نتائج میں بھی جان بوجھ کر تبدیلی کرنے کی شکایت سامنے آئی تھیں جس پر طلبہ نے کئی روز تک احتجاج کیا تھا، کراچی کے طلبہ کے ساتھ تسلسل کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ یہ سب کچھ انہیں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں جان بوجھ کر پیچھے رکھنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے کی جانے والی شکایات کو تعصب کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے ان کا نوٹس لیا جائے۔