کبھی انتظار لمحہ سرِ شام رکھ دیا ہے
کبھی دل اٹھا کے ہم نے ، ترے نام رکھ دیا ہے
کبھی جسم و جاں جلا کے تری رہ گزر سجا دی
کبھی دل چراغ جیسا لبِ بام رکھ دیا ہے
ترے رُخ کی چاندنی کا ، کبھی نام صبح رکھا
تری چشمِ سُر مگیں کا ، کبھی شام رکھ دیا ہے
مرے شعر شعر میں ہیں ترے خدّ و خال روشن
ترا نقش نقش ہم نے سرِ عام رکھ دیا ہے